Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
407 - 479
 والی کسی کی کوئی بات برداشت نہ کرتا، فوراً آپے سے باہر ہو جاتا۔ بس اپنی موج مستی میں گم رہتا، برے کی صحبت برا بنا دیتی ہے کے مصداق میں جرائم کی دنیا میں اس قدر آگے بڑھتا چلاگیا کہ میر ا شمار علاقے کے مشہور غنڈوں میں ہونے لگا۔ ہر طرف میرے نام کی دہشت تھی ، کسی کی جان و مال اور عزت ِنفس مجھ سے محفوظ نہ تھی ۔میرے دن منشیات نوشی میں تو راتیں بدکاری کے اڈوں میں سیاہ ہوتیں۔ الغرض میرے شب و روز یونہی گناہوں میں بسر ہورہے تھے میں فکرِ آخرت سے یکسر غافل اپنی زندگی کے قیمتی ایام دنیا کی حرص اورخواہشاتِ نفسانیہ کی تکمیل میں گزار رہا تھا ۔ میرے سدھرنے کے اسباب یوں بنے کہ 2008  ء کی ایک شب خوش قسمتی سے مجھے اپنے گاؤں کی جامع مسجد میں جانے کا اتفاق ہواتووہاں پر ایک مبلغ دعوت اسلامی سنتوں بھرا بیان فرما رہے تھے بیان بڑا دلنشیں تھا لہٰذا میں بھی بیٹھ کر بیان سننے لگا ۔مبلغ دعوت اسلامی کے پرسوز الفاظ تاثیر کا تیر بن کر میں دل میں اترتے چلے گئے ۔قبر و آخرت کی تکالیف وعذابات کا تذکرہ سن کر مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا میرے دل کی دنیا زیرو زبر ہو گئی۔ اپنی گناہوں سے آلودہ زندگی کے بارے میں سوچ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ آہ! میرا کیا بنے گا یہی سوچ سوچ کر میرا دل ڈوبتا چلا گیا اور آنکھوں سے بے اختیار آنسوؤں کا سیلاب اُمَنڈ آیا۔ میرے والدصاحب اوربھائی بھی اس اجتماع میں شریک تھے