Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
405 - 479
مسافروں کو لائن میں کھڑے ہونے کا حکم دیا، مگر میرے چہرے پر داڑھی اور سر پر عمامہ شریف نیز سنّتوں بھرے سفید لباس کو دیکھ کر ان میں سے ایک نے کہا کہ مولانا صاحب ! آپ اپنی خواتین کو لے کر ایک طرف کھڑے ہو جائیں ہم آپ کو نہیں لوٹیں گے۔ پھر انہوں نے سارے لوگوں کو لوٹ لیا، اور بھاگتے ہوئے مجھ سے کہا ’’ مولانا صاحب تکلیف معاف کرنا اور دعا میں یاد رکھنا۔‘‘ 
سنّتوں کے اے مبلغ ! ہو مبارک تجھ کو
تجھ سے سرکار بڑا پیا رکیا کرتے ہیں
عمامے کی برکت سے جان بچ گئی 
	شیخ طریقت ، امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَ امَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کی قیام گاہ (جسے بیتُ الفناء کہا جاتا ہے ) سے ایک اسلامی بھائی رات کے وقت سحری کے لئے روٹیاں خریدنے اترے، دہشت گردی کے دن تھے، ایک سُنسان گلی میں پیلی ٹیکسی سے مسلح آدمی اترے اور نشانہ باندھا کہ ان کے ایک ساتھی نے داڑھی مبارک ،عمامہ شریف اور سنّتوں بھرا لباس دیکھ کر کہا کہ چھوڑو یار، مولانا کو جانے دو، اور یوں اَ لْحَمدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وہ ہوٹل سے روٹیاں خرید کر بخیرو عافیت بیت الفناء پلٹے۔ 
	غرضیکہ اس پیاری سنّت میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہے۔ ہمیں اپنی