Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
403 - 479
 کے کپڑوں میں سامنے والی جیب کے ساتھ ایک مسواک رکھنے کی جیب بھی ہے جو ماقبل مذکور طریقوں کی مکمل عکاسی کرتی ہے اور یہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عمل کا صدقہ ہے کہ دعوتِ اسلامی سے وابستہ عاشقانِ رسول بھی اس ادائے امیرِاہلسنّت پر عمل پیرا ہو کر مسواک کی سنّت کی برکتوں سے مالامال ہو رہے ہیں اور اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی رضا کا سامان کر رہے ہیں۔ 
عمامے کے ذریعے کنویں سے پانی نکالا
	حضرت سیّدنا شیخ سعدی  عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الْھَادِی اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’بوستان ‘‘میں واقعہ نقل فرماتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص صحرا میں کہیں جا رہا تھا کہ اس نے ایک کتے کو دیکھا جو کہ پیاس کی شدت کے باعث جاں بلب تھا۔ اس خدا ترس نے اپنا عمامہ شریف کھول کر کلاہ کا ڈول بنایا اور عمامے سے باندھ کر کنویں سے پانی نکالا اور اس جاں بَلَب کتے کے حلق میں ڈال دیا جس سے اس کی جا ن بچ گئی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس دور کے نبی عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو وحی فرمائی کہ اس کی مغفرت کر دی گئی ۔ (بوستان سعدی ،باب دوم در احسان، ص ۷۹) 
٭اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت، مجدِّدِ دین و ملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن ایک بار جب اپنے رفقاء کے ساتھ سفرِ مدینہ کے دوران ’’ بیرِ شیخ‘‘ پر پہنچے تو نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے وضو کی حاجت تھی۔ کنویں سے پانی