Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
402 - 479
 بھیگ گیا۔ اس کے بعد بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے یہاں تک کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آستینیں بھی آنسوؤں سے شرابور ہو گئیں۔ 
(موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الرقۃ والبکائ،۳/۲۱۲)
عمامے میں مسواک
	حضرت سیِّدنا امام عبدالوہّاب شعرانی علَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم سے عہد لیا گیا ہے کہ ہر وضو کرنے اور ہر نماز پڑھنے سے قبل پابندی کے ساتھ مسواک کیا کریں گے اگرچہ ہم میں سے اکثر کو (اس کے اِدھر اُدھر ہو جانے کے خوف سے) اسے اپنی گردن میں ڈوری کے ساتھ باندھنا پڑے یا عمامہ کے ساتھ باندھنا پڑے جبکہ عمامہ فقط سر بند پر ہو اور اگر ٹوپی ہو تو ہم اس پر مضبوطی کے ساتھ عمامہ باندھیں گے اور مسواک کو بائیں کان کی طرف عمامے میں اٹکا لیں گے۔ (العھود المحمدیہ، قسم المامورات، ۱/۱۶) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ مسواک کتنی اہم سنّت ہے اور اس پر عمل کرنے کی کتنی زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّّ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نہ صرف اس سنّت ِمبارکہ کی تلقین فرماتے ہیں بلکہ بذاتِ خود اس سنّت پر عمل بھی فرماتے ہیں۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی اس عظیم سنّت سے محبت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ