متبرک مٹی عمامہ میں
حضرت سیّدنا عطا ء رَحمَۃُ اللہِ تعالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں : مجھے حضرت سیّدنا مالک بن دینار عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے بتایا کہ میں نے حضرت سیّدنا عبداللہ بن غالب رَحمَۃُ اللہِ تعالٰی عَلَیہ کی قبرِ انور سے کچھ مٹی لی ، اپنے عمامے میں باندھی اور اپنے گھر آ گیا۔ میں نے اسے ایک برتن میں رکھا، اس میں پانی ڈالا اور اس سے اپنے ہاتھ دھونے لگا پس میں نے اس میں مشک سے بھی بڑھ کر خوشبو پائی۔
(الموضح لاوہام الجمع والتفریق، ذکر نصر بن علی الجہضمی ، ۲/۴۳۲)
عمامہ آنسوؤں سے بھیگ گیا
حضرت سیّدنا معاذ بن زیاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت سیّدنا یحییٰ بن مسلم بکّاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے سر پر عمامہ شریف یوں باندھا کہ اسے اپنے حلق کے پاس سے گھمایا (یعنی تحنیک کی )اور دو شملے چھوڑے ۔ اچانک آپ پر رِقّت طاری ہوگئی آپ اس قدر روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں اور آنسوؤں سے عمامہ کا ایک شملہ بھیگ گیا۔ (کچھ وقفے کے بعد )پھر پہلے کی طرح سِسکیاں لے لے کر رونے لگے یہاں تک کہ دوسرا شملہ بھی آنسوؤں سے تر ہو گیا۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے سر سے عمامہ شریف اتار دیا۔ آپ کی ہچکیاں اب بھی نہ رُک پائی تھیں یہاں تک کہ پورا عمامہ آنسوؤں سے