زیادہ وزنی نہ ہو کہ باعثِ تکلیف ہے۔ (بہارِ شریعت، ۱/۸۰۹)
عمامہ شریف کا جھنڈا
جب نبیٔ اکرم ، شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم مدینہ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا ہجرت فرما کر تشریف لائے اسوقت حضرت سیّدنا بُرَیْدَہ بِنْ حُصَیْبِ اَسْلَمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قبیلہ بنی سَہَم کے ستر افراد کے ساتھ مسلمان ہو کر عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم مدینے میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکا داخلہ جھنڈے کے ساتھ ہو نا چاہیے ،چنانچہ حضرت سیّدنا بُرَیْدَہ اَسْلَمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا عمامہ شریف سر سے اُتار ا، نیزے پر باندھ کر اسے جھنڈا بنا لیا اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے آگے آگے روانہ ہوئے۔ (سیرت حلبیہ، باب الہجرۃ الی المدینۃ، ۲/۷۱، خلاصۃ الوفا، الباب الثالث فی اخبار سکانہا الخ ، الفصل الثالث فی اکرام اللہ تعالی لہم بالنبی الخ، ص ۱۸۸، تاریخ الاسلام ، ۱/۳۳۰)
عمامہ شریف کا نقاب
ایک مرتبہ حضرتِ سیّدنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لوگوں کے قدموں سے اڑنے والے غبار سے بچنے کے لیے اپنے عمامے شریف کا شملہ اپنے منہ پر رکھ لیا تھا۔ (طبقات ابن سعد ،سندر، ۷/۳۵۱)