کرنے کے لئے کمر سے کوئی کپڑا وغیرہ باندھ لیتے ہیں ) (مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب المناسک،باب فی المحرم یعقد علی بطنہ الثوب، ۸/۷۲۴، حدیث:۱۵۶۸۵)
بعدِ وفات پیٹ پر عمامہ
حضرت سَیِّدَتُنا مریم بنت فَروَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ جب حضرت سیّدنا عمران بن حُصَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصالِ مبارک کا وقت قریب آیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اِذَا اَنَا مُتُّ فَشُدُّوْا عَلَی بَطَنِیْ عِمَامَۃً وَاِذَا رَجَعتُم فَانْحَرُوْا وَاَطعِمُوا یعنی جب میں فوت ہو جاؤں تومیرے پیٹ پر عمامہ باندھ دینا اور جب تم (تدفین کے بعد) واپس آؤ تو جانور ذبح کر کے لوگوں کو کھانا کھلانا۔ (معجم کبیر، عمران بن حصین۔۔،۱۸/۱۰۶، حدیث:۱۹۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیّدنا عمران بن حُصَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پیٹ پر عمامہ شریف باندھنے کی جو وصیت فرمائی اس میں حکمت یہ ہے کہ بسا اوقات میت کا پیٹ پھول جاتا ہے اگر پیٹ پر کچھ باندھ دیاجائے یا کوئی وزنی شے رکھ دی جائے تو حفاظت رہتی ہے جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اول صفحہ 809 پر مذکور ہے کہ (جب کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو) اس کے پیٹ پر لوہا یا گیلی مٹی یا اور کوئی بھاری چیز رکھ دیں کہ پیٹ پھول نہ جائے۔ مگر ضرورت سے