سے ایک یہ بھی تھا کہ حضرت سیّدنا ذوالقرنین رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِ نبی تھے یا فرشتے ؟ تو حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم نے فرمایا: دونوں میں سے کچھ بھی نہ تھے بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے تھے ، انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی تو اس نے انہیں اپنا محبوب بنا لیا ،انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے اخلاص اپنایا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنا مخلص بندہ بنا لیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں ان کی قوم کی طرف نیکی کی دعوت کے لئے بھیجا تو انہوں نے آپ کے دائیں جانب (سر پر) چوٹ ماری ، جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا آپ رکے رہے ، اللہُ تَبَارَ ک وَ تَعَالٰی نے آپ کو دوبارہ نیکی کی دعوت کے لئے بھیجا۔ آپ کی قوم نے آپ کی بائیں جانب (سر پر) چوٹ ماری ۔آپ کے بیل کی طرح کے سینگ نہ تھے۔ (کنزالعمال، کتاب الاذکار، باب فی القرآن، جامع التفسیر، الجز الثانی، ۱/۲۳۹، حدیث:۴۷۳۷ مختصراً)
عرب میں عمامے کا مقام
حضرت سیّدنا امام ابوزکریا مُحیُ الدین بن شرف نَوَوِی شافعی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ عرب جب کسی شخص کو سردار بناتے تو کہا کرتے قَد عُمِّمَ یعنی اسے عمامہ پہنا دیا گیا (گویا کہ وہ سرداری کو عمامے سے تعبیر کیا کرتے تھے) کیونکہ عمامے عرب کے تاج ہیں۔ نیز جب کسی کو سردار مقرر کرتے تو اسے سرخ