امام ابوداؤد اور صاحبِ سنن ، محمود صالح بن خیوان سے مَراسِیل میں راوی کہ اَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ رَاَی رَجُلاً یُصَلِّی یَسجُدُ بِجَبِینِہِ وَقَد اِعتَمَّ عَلٰی جِبہَتِہ فَحَسَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن جِبہَتِہ تحقیق پیغمبرِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ایک مرد کو سجدہ کرتے دیکھا حالانکہ عمامہ باندھا تھا اس نے اپنی پیشانی پر اور پیشانی اس کی عمامہ کے پیچ سے ڈھکی تھی۔ پس اس پیچ کو حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) نے ہٹا دیا اور پیشانی اس کی کھول دی ۔‘‘ (مراسیل أبي داود، کتاب الطہارۃ، جامع الصلاۃ، ص۱۱۶، حدیث:۸۴) (کشف الغمامہ عن سنیۃ العمامہ، ص۱۸) اس واسطے اگر کبھی ایسی صورتِ حال پیش آجائے تو ذیل میں درج مسئلہ پیشِ نظر ہونا ضروری ہے : مسئلہ: عمامہ کے پیچ پر سجدہ کیا اگر ماتھا خوب جم گیا، سجدہ ہو گیا اور ماتھا نہ جما بلکہ فقط چھو گیا کہ دبانے سے دبے گا یا سر کا کوئی حصہ لگا، تو نہ ہوا۔ (بہارِ شریعت، ۱/۵۱۵)
عمامہ کمر سے باندھ لیا
حضرت سیّدنا ہِشَام بِن حُجَیْر رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا طاوُوس رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے حضرت سیّدنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو دیکھا کہ آپ نے طواف کرتے ہوئے اپنا عمامہ شریف اپنی کمر سے باندھ رکھا تھا۔ (جیسا کہ اب بھی مزدور اور محنت کش لوگ تھکن سے بچنے اور چُستی پیدا