اس حدیثِ پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ یہ گرمی فرش کی ہوتی تھی نہ کہ وقت کی، سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) ظہر ٹھنڈی کرکے پڑھتے تھے مگر فرش تَپا ہوتا تھا جیسے کہ اب بھی حرمین شریفین میں دیکھا جاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنے پہنے ہوئے کپڑے پر ضرورۃً سجدہ کرسکتا ہے، یہی امام صاحب کا قول ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۱/۳۷۹)
مندرجہ بالا روایات میں بھی نبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اور آپ کے اصحاب عَلَیہِمُ الرِّضْوَان کا عماموں پر سجدہ کرنے کا ذکر ہے ،یہ عمل سردی یا گرمی کی شدت کے وقت کیا جاتا تھا جیسا کہ اُستاذُالمُحَدِّثِین حضرت علامہ مفتی وصی احمد مُحدِّث سُورَتی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی عمامہ شریف کے متعلق اپنی تَصنِیفِ لطیف ’’کَشفُ الغَمَامَہ عَن سُنِّیَّۃِ العِمَامَہ‘‘ صفحہ 18 پر فرماتے ہیں : ’’یہ سجدہ کرنا حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا عمامے کے پیچ پر بیانِ جواز کے لئے تھا یا بوجہ کسی ضرورت تپشِ زمین وغیرہ کے تھا ورنہ ہمارے حق میں بِلا کسی ضرورت کے عمامہ کے پیچ پر سجدہ کرنا مکروہ ہے چنانچہ کتبِ فقہ میں مُبَرہَن (دلیل سے ثابت) ہو چکا ہے۔ اس واسطے حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ایک صحابی کو عمامہ کے پیچ پر سجدہ کرتے دیکھا آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) نے اسی حالت میں اس کی پیشانی سے عمامہ کے پیچ کو ہٹا دیا۔