حسن بصری عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : نبی مکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکے صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضْوَان جب سجدہ کرتے تو ان کے ہاتھ کپڑوں میں ہوتے اور وہ (گرمی اور تپش سے بچنے کے لئے) اپنے عمامہ پر سجدہ کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصّلاۃ، باب فی الرجل یسجد ویداہ فی ثوبہ، ۲/۴۹۷، حدیث:۲۷۵۴)
حضرت سیّدنا امام حسن بَصری عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : کَانَ الْقَومُ یَسجُدُونَ عَلَی الْعِمَامَۃِ وَالقَلَنْسُوَۃِ وَیَدَاہُ فِی کُمِّہ یعنی صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضْوَان عمامہ اور ٹوپی پر سجدہ کیا کرتے تھے اور ان کے دونوں ہاتھ آستینوں میں ہوتے تھے۔
(بخاری، کتاب الصلاۃ، باب السجود علی الثوب فی شدۃ الحر، ۱/۱۵۳)
شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’سخت سردی اور سخت گرمی میں اس کی اجازت ہے‘‘۔
(نزہۃ القاری، ۲/۱۰۰)
حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : جب ہم نبیٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے پیچھے نمازِ ظہر پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب وقت الظہر عند الزوال، ۱/۲۰۰، حدیث:۵۴۲)