گزری اور کہا اے رسول اللہ کے صحابی آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ نے سارا واقعہ اسے سنا دیا۔ اس بوڑھی عورت نے اپنی چادر اتاری اور آپ کی جانب اچھالتے ہوئے کہا : ’’اپنی چادر کے بدلے میں یہ چادر لے لو۔‘‘ (مسند احمد، باب مسند مکیین ،حدیث أبی حدرد الأسلمی ۵/۲۷۷، حدیث:۱۵۳۸۹)
اس روایت سے ہمیں مندرجہ ذیل مدنی پھول ملتے ہیں :
( 1) اسلام حقوق کی ادائیگی کے معاملے میں کس قدر اہتمام کا حکم فرماتا ہے ۔
(2)صحابیٔ رسول نے عمامے کو سخت مجبوری کے باعث تہبند بنایا تھا۔
( 3) بغیر کسی صحیح مجبوری کے عمامے کو تہبند بنانا درست نہیں۔ غالباً اسی وجہ سے بڑھیا نے صحابیٔ رسول کے اس فعل پر تعجب سے سوال کیاتھا۔
( 4)نبیٔ اکر م، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل کا صلہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُسی وقت عطا فرما دیا۔
( 5)ہمیں بھی سنّت پر عمل کرنے میں حیلے بہانوں سے کام نہیں لینا چاہئے۔
( 6) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی چادر کی قیمت عمامے سے زیادہ تھی غالباً اسی لئے عمامہ کے بجائے چادر بیچنے کے لئے دی۔
عمامے شریف پر سجدہ
حضرتسیّدنا ہشام رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیّدنا