Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
394 - 479
قرض کی ادائیگی کا واقعہ
	حضرت سیّدنا محمد بن یحییٰ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا اِبنِ اَبی حَدرَد اَسلمیرَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ پر ایک یہودی کا چار درہم قرض تھا۔ اس نے نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سے شکایت کردی ۔ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے یہودی کا قرضہ ادا کرنے کا حکم دیا صحابی نے عرض کی: یارسول اللہ! خدا کی قسم میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: اس کا حق ادا کرو۔ حضرت سیّدنا اِبنِ اَبی حَدرَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ نے عرض کی: میں نے اس سے کہا تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم ہمیں خیبر کی طرف جہاد کے لئے روانہ فرمانے والے ہیں ، مجھے امید ہے کہ میں وہاں سے ملنے والی غنیمت سے قرض اتار دوں گا۔ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے تیسری بار پھر ارشاد فرمایا: اس کا حق ادا کرو۔ راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمجب تین بار کسی بات کا حکم ارشاد فرما دیتے تو پھر دوبارہ نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیّدنا اِبنِ اَبی حَدرَد رَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنہ بازار گئے اور اپنے سر سے عمامہ اُتارکر اس کو تہبند کی جگہ باندھ لیا اور پھر دھاری دار چادرجو کہ تہبندکی جگہ باندھ رکھی تھی اُتاری اور یہودی سے فرمایا اسے چار درہم میں خرید لے، تو اس نے چار درہم میں خرید لی۔ ایک بوڑھی عورت آپ کے پاس سے