تک پہنچانے کا حکم دیا ۔ راستے میں حضرت سیّدنا عامر رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ کو دھوکے سے ایک چرواہے نے قید کر لیا۔ حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ نے وہاں پہنچ کر حضرت سیّدنا عامر رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ کو آزاد کروایااور پوچھا کہ میں نے تمہیں حضرت سیّدنا ابوعبیدہ کے نام جو خط دیا تھا ، وہ کہاں ہے ؟ تو حضرت سیّدنا عامر رَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنہ نے جواب دیا کہ وہ خط ابھی تک میرے عمامہ کے شملے میں پوشیدہ ہے۔ (فتوح الشام، ۱/۲۳ ملخصاً)
٭حضرت سیّدنا سَہَل بن حنظلہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عُیَینَہ بن حصنرَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ اور حضرت سیّدنا اَقرَع بن حابِس رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سے کسی چیز کے بارے میں سوا ل کیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ کو حکم دیا کہ ان کے لئے لکھ دیں چنانچہ اُنہوں نے لکھ دیا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اس پر مُہر ثَبت فرمائی اور تحریر ان کے حوالے فرما دی۔ عُیَینَہ رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ نے عرض کی: اس تحریر میں کیاہے؟ تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: جس بات کا تم نے تقاضا کیا تھا، وہ اس تحریر میں ہے۔ پس اُنہوں نے اسے قبول کیا اور اپنے عمامہ میں باندھ لیا۔ (مسند احمد، باب مسند الشامیین ،حدیث سہل بن حنظلیہ، ۶/۱۹۵، حدیث:۱۷۶۴۲)