Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
392 - 479
اپنے سروں پر عمامہ شریف باندھتے تھے۔ 
عمامہ شریف بطور پٹی
	اگر کبھی زخم وغیرہ لگ جائے تو پٹی نہ ہونے کی صورت میں عمامہ شریف بھی کام میں لایا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا جُوَیْرِیَہ بِنْ قُدَامَہ رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنہ کو جب زخمی کر دیا گیا تو ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے (تو اس وقت آپ کی حالت یہ تھی کہ ) وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَہُ بِعِمَامَۃٍ سَوْدَائَ وَالدَّمُ یَسِیلُ اور آپ رَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنہ نے سیاہ عمامہ اپنے پیٹ کے گرد زخم پر لپیٹ رکھا تھا اور خون بہہ رہا تھا ۔ 
(مسند احمد، مسند عمر بن الخطاب، ۱/۱۱۴، حدیث:۳۶۲)
٭حضرت سیّدنا ابو حذیفہ اسحاق بن بشر رَضِی اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا اَبان بن سعید بن عاص رَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنہ کو ایک زہر آلود تیر لگ گیا۔ تیر نکال کر آپ نے زخم پر اپناعمامہ شریف باندھ لیا۔ 
( تاریخ ابن عساکر، ۶/۱۳۸، واللفظ لہ، فتوح الشام، ۱/۶۵) 
خط عمامے میں 
	حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنہ نے حضرت سیّدنا عامر رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ کو ایک خط دے کر حضرت سیّدنا ابوعُبَیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ