تَعَالٰی عَلَیہِ پہلے تاج پہنا کرتے تھے نیز یہ کاتب آپ کا ہمراز تھا۔
(محاضرۃ الاوائل، ص۸۴)
حضرت ذوالقرنین نبی تھے نہ فرشتے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ روایت میں حضرت سیّدنا ذوالقرنین رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِ کے سینگوں کا ذکر ہے جس سے گمان ہوتاہے کہ ان کے جانوروں کی طرح سینگ تھے حالانکہ ایسا نہیں ، یہ سینگ کیا تھے؟ کیسے پیدا ہوئے؟ اس کی تفصیل بابِ مدینۃُ العلم حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم نے بیان فرمائی ہے چنانچہ حضرت سیّدنا ابوطفیل عامر بن واثِلہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں : میں حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہوا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ آپ نے دورانِ خطبہ ارشاد فرمایا :سَلُونِی فَوَاللہِ لَا تَسْأَلُونِی عَنْ شَیْئٍ یَکُونُ اِلٰی یَومِ الْقِیَامَۃِ اِلَّا حَدَّثْتُکُم بِہ یعنی مجھ سے سوال کرو ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تم مجھ سے قیامت تک ہونے والے کسی بھی معاملے کے متعلق پوچھو میں جواب دوں گا۔ مجھ سے کتابُ اللہ کے بارے میں پوچھو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! کوئی آیت ایسی نہیں کہ جس کے متعلق میں نہ جانتا ہوں کہ یہ رات میں نازل ہوئی یا دن میں ، زمین پر نازل ہوئی یا پہاڑ پر۔ اِبْنُ الْکَوَّاء نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے چند سوالات کیے جن میں