سیٹ دے دیں تاکہ میں اگلی سیٹ کے پشتے پر سر رکھ کے کچھ نیند پوری کر سکوں۔ بھائی جان نے خیر خواہی کے جذبے کے تحت انہیں اپنی سیٹ دے دی اورخود پیچھے آکر بیٹھ گئے۔ بس بڑی تیزی سے فراٹے بھرتی جا رہی تھی کہ اچانک بریک لگنے کی آواز بلند ہوئی اور سواریاں اچھل کر آگے جاگریں اور آن کی آن میں ایک زبردست تَصَادُم (ٹکر) کی بدولت گاڑی آگے سے اٹھی اورستون کی ماند کھڑی ہوگئی اچانک بریک لگنے کی وجہ سے سواریاں جوآگے اچھلی تھیں بس سیدھی کھڑی ہونے سے وہ پیچھے ایک دوسرے پر دھڑام دھڑام گریں ،کچھ لوگ بھائی جان پر بھی آ گرے ،مسافروں کی چیخ و پکا ر سے بس میں ایک کُہرام بر پا تھا، بس فی الفور رآگے کی جانب گری اور دروازے کی طرف الٹ کر دور تک گھسٹتی چلی گئی۔ غرض بس کے اندر کا منظر مضبوط سے مضبوط اَعصاب رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لئے کافی تھا، بھائی جان کا کہنا ہے کہ اس قیامت خیز حادثے میں کثیر مسافر شدید زخمی ہوئے، متعدد افراد کے سروں پر بھی گہری چوٹیں آئیں میری سیٹ پر بیٹھنے والے شخص کی اگلی سیٹ دبنے کی وجہ سے دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کرم اور مدنی ماحول کی برکت سے عمامہ شریف کی پیاری پیاری سنّت اپنانے کا فیض تھا کہ حادثے کے دوران اگرچہ میرا سر کئی بار اِدھر اُدھر زورسے ٹکرایا مگرچوٹ لگنے سے بالکل محفوظ رہا۔