واقعے سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ
ٹیکسلا (واہ کینٹ ، پنجاب) کے محلہ عزیز آباد کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ خوش قسمتی سے 1990 ء میں میرے بڑے بھائی کو دعوت اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول کی بہاریں نصیب ہوئیں۔ جس کے باعث گھر بھر میں شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فیضان یوں جاری ہو گیاکہ سب گھر والے مدنی ماحول کی برکتوں اور بہاروں سے مالامال ہوگئے۔ مرشد کی نظر فیض اثر سے میرے بڑے بھائی نے مکمل طور پر مدنی حلیہ اپنا لیا۔بھائی جان ہمہ وقت سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے رکھتے ۔ مدنی ماحول کی برکت سے عمامہ شریف کی پابندی نے انہیں ایک سنگین حادثے میں کس طرح مامون و محفوظ رکھا اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ 1997 ء میں بھائی جان عزیزو اقارب سے عید ملنے شکر گڑھ (ضلع نارووال ، پنجاب) گئے۔ واپسی پر عید کی وجہ سے مسافرین کی کثرت کے سبب گاڑیاں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں ، بہت کوشش کے بعد بالآخر بھائی جان کو آخری سے آگے والی سیٹ پرجگہ مل ہی گئی۔ گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ دوران سفر آخری سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے بھائی جان سے کہا کہ مجھے بہت نیند آرہی ہے اورسامنے سیٹ نہ ہونے کی وجہ سے میں سر رکھ کر سو نہیں سکوں گا، آپ برا نہ مانیں تو میری جگہ پر آجائیں مجھے اپنی