مجھے مبارکباد دینی شروع کر دی، نیز مجھے دیکھ کر کہیں سے سُبحَانَ اللہ تو کہیں سے مَاشآءَ اللہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں اور تو اور جب میرا سامنا غیر مسلم منیجر سے ہوا تو پہلے اس نے سر سے پاؤں تک بغور میرا جائزہ لیا اور پھر بے اختیار بول اُٹھا (You are looking smart) یعنی تم بہت اچھے لگ رہے ہو۔ غرض ہر طرف سے حوصلہ اَفزا جملے سن کر میں خوشی سے پھولا نہ سمایا ، میری بہت ڈھارس بندھی بس وہ دن تھا اور آج کا دن اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوََجَلَّ میں پابندی سے مکمل مدنی حلیے میں اپنے دفتر جاتا ہوں اور مدنی کاموں کے سلسلے میں بھی پہلے سے کہیں زیادہ بھاگ دوڑ کرنے لگا ہوں۔
سنَّت کی بہار آئی فیضانِ مدینہ میں رحمت کی گھٹا چھائی فیضانِ مدینہ میں
داڑھی ہے عمامے ہیں زلفوں کی بہاریں ہیں شیطان کو شرم آئی فیضانِ مدینہ میں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے عمامہ شریف پہننے سے کوئی پر وقار اسی وقت نظر آ سکتا ہے جبکہ عمامہ شریف خوب صاف ستھرا ہو اگر صورتِ حال برعکس ہوئی تو نفرت کا سبب بن سکتا ہے ۔ یوں بھی ہمیں اپنے لباس کو میل کچیل وغیرہ سے پاک و صاف رکھنے کا نہ صرف حکم دیا گیا ہے بلکہ حضوراکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نظیف ہے اور نظافت کو پسند فرماتا ہے۔ (ترمذی ،کتاب الادب، باب ماجاء فی النظافۃ، ۴/۳۶۵، حدیث:۲۸۰۸، مختصراً)