Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
380 - 479
وہاں ایک اسلامی بھائی سے ملاقات ہوئی جو اچھے خاصے تعلیم یافتہ تھے ،چونکہ دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار بھی تھے لہٰذا مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے لیکن وہ اپنے دفتر میں عمامہ شریف پہن کر جانے سے کتراتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ میں عمامہ شریف باندھ کر جاؤں گاتو ’’لوگ کیا کہیں گے ؟‘‘ نجانے عمامہ باندھ کر میں کیسا لگوں گا؟ آپ مزید فرماتے ہیں کہ میں نے خیر خواہی کرتے ہوئے اس اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کی اور کہا کہ آپ ایک مرتبہ باعمامہ دفتر جائیں تو سہی۔ میری تھوڑی دیر کی انفرادی کوشش پر انھوں نے ہامی بھرلی کہ میں عمامہ باندھ کر دفتر جاؤں گا (نگران شوریٰ فرماتے ہیں کہ)  اس کے بعد میں وہاں سے دوسرے شہر چلا گیا۔ کچھ دنوں بعد واپسی پر اس اسلامی بھائی سے ملاقات ہوئی تو انہوں اپنے دفتر میں پہلی مرتبہ مکمل مدنی حلیے میں جانے کا واقعہ بیان کیا، کہنے لگے چونکہ اس دن میں پہلی مرتبہ مکمل مدنی حلیے یعنی سر پر سبز سبز عمامہ سجائے اور سفید مدنی لباس زیب تن کئے اپنے دفتر جارہا تھا لہٰذا سوچ رہا تھا کہ آج تو میرے دوست میرا خوب مذاق اڑائیں گے اور مجھ پر طنز کے تیر چلائیں گے کافی حد تک میں نے اپنے آپ کو اس کے لئے آمادہ بھی کر لیا تھا مگر اس لمحے مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ جب میں دفتر میں داخل ہوا، کیونکہ نتیجہ میرے وہم و گمان کے بالکل برعکس نکلا تھا، مجھ پر نظر پڑتے ہی میرے دوستوں نے میری دل آزاری کرنے اور مجھ پر آوازے کسنے کے بجائے