ایک روز آپ حمام میں داخل ہوئے تو آپ کا کاتب بھی آپ کے ساتھ تھا، آپ نے سر سے عمامہ شریف اتارا اور فرمایا اس با ت (یعنی بادشاہ کے سینگوں )کے بارے میں سوائے تیرے اور کوئی نہیں جانتا اگر میں نے کسی سے اس کے متعلق سنا تو تیری گردن اڑا دوں گا۔ کاتب حمام سے نکلا تو اس پر موت کا خوف طاری تھاوہ صحر امیں گیا اور اپنا منہ زمین پر رکھ کر پکارا سنو ! بادشاہ کے دو سینگ ہیں۔ سنو! بادشاہ کے دو سینگ ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے کلمات سے دو بانس اُگا دئیے۔ ایک چرواہے کا وہاں سے گزر ہوا اسے یہ پسند آ گئے اس نے بانسوں کو کاٹ کر ایک بانسری بنا لی۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت دیکھئے وہ جب بھی بانسری بجاتا تو اس سے آواز آنے لگتی: سنو! بادشاہ کے دو سینگ ہیں۔ اس طرح یہ بات پورے شہر میں پھیل گئی۔ بادشاہ نے کاتب سے کہا: سچ سچ بتا کیا معاملہ ہے؟ ورنہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ کاتب نے سارا واقعہ سنا دیا۔ حضرت سیّدنا ذوالقرنین رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِ نے فرمایا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس بات کو ظاہر کرنے کا ارادہ فرما لیا ہے‘‘ پھر آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِ نے اپنے سر سے عمامہ شریف اتار دیا۔ (کتاب العظمۃ ، قصۃ ذی القرنین ، ص ۳۳۹، رقم: ۹۷۶، تفسیردرِمنثور ، پ ۱۶، الکہف ، تحت الآیۃ:۸۳ ، ۵/۴۳۶ ، الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۵)
مُحَاضَرَۃُ الْاَوَائِل میں مذکورہے کہ حضرت سیّدنا ذوالقرنین رَحمَۃُ اللہِ