عمامہ شریف کے طبّی و دنیوی فوائد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام دینِ فطرت ہے۔ بنظرِ غائر دیکھا جائے تو گناہوں کی معافی ، حصولِ ثواب اور بلندیٔ درجات جیسے اخروی فوائد کے ضمن میں یہ ہماری ظاہری فلاح اور بدنی صحت کے لئے بھی مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ فرائض و واجبات کی پابندی کی ساتھ ساتھ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی سنّتوں پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف ہم اخلاقی، روحانی اور معاشی زندگی میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں بلکہ جسمانی سطح پر صحت و توانائی کی دولت سے بھی بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔ یقیناً نبیٔ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّتیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا اندازِ زندگی بنی نوعِ انسان کی کامیابی کے لئے حفظانِ صحت کے اُصولوں کے عین مطابق ہے۔ جنہیں قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ نے آج سے کم و بیش چودہ سو سال پہلے بیان فرما دیا تھا اور جدید سائنس اب کہیں جا کر ان زَرِیں اُصولوں کی اِفادِیت سے آگاہ ہوئی ہے۔ سائنس دانوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے لیل و نہار کے معمولات پر تحقیقات کر کے ان میں حکمتیں تلاش کیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں انہیں مختلف انداز سے اپنانا بھی شروع کر دیا ہے۔ اسلام علاج سے زیادہ حفظانِ صحت اور اِحتیاطی تدابیر پر زور دیتا ہے جیسا کہ طہارت ، نماز، روزہ اور مسواک کے