داخل ہوئے ۔ ان دونوں خوش نصیب صحابۂ کرام نے آقائے نامدارصَلَّی اللہ تَعَالی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کے مبارک سر پر عمامہ شریف باندھا۔
(طبقات ابن سعد، غزوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم احداً ، ۲/۲۹)
حضرت سیّدناجَعفَر بِنْ بُرقان فرماتے ہیں : مجھے اہلِ مکہ میں سے ایک شخص نے حدیث بیان کی کہ حضرت سیّدنا فضل بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہُما نبیٔ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کی بارگاہ میں مرضِ وفات میں حاضر ہوئے تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے فرمایا: یَا فَضلُ شُدَّ ہٰذِہِ العِصَابَۃَ عَلٰی رَاسِی یعنی اے فضل ! یہ عمامہ لو اور میرے سر پر باندھ دو۔ تو انہوں نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کے سرِاقدس پر عمامہ شریف باندھا۔ (طبقات ابن سعد، ذکر ما اوصی بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی مرضہ الذی مات فیہ ، ۲/۱۹۶)
عقلمند مسلمان کی پہچان
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْھُمَا روایت کرتے ہیں کہ ایک نوجوان نے کھڑے ہوکر عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کون سا مسلمان سب سے زیادہ سمجھدار ہے ؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’موت کو کثرت سے یاد کرنے اور اس کے آنے سے پہلے اس کے لئے اچھی تیاری کرنے والا ہی سب سے زیادہ سمجھدار ہے ‘‘۔(ابن ماجہ ، ابواب الزھد ، باب ذکر الموت والا ستعدادلہ،الحدیث : ۴۲۵۹،ص ۲۷۳۵)