Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
376 - 479
 وجد میں آگئے، اعلیٰ حضرت خود بھی ان اشعار پر محظوظ ہورہے تھے، لیکن شاہ عبدالعلیم میرٹھی نے منقبت کو جاری رکھا جب مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی اشعار پڑھ چکے تو اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا :مولانا! میں آپ کی خدمت میں کیا پیش کروں ( اپنے عمامہ شریف (جو کہ بیش قیمت تھا) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) اگر اس عمامہ کو پیش کردوں توآپ اُس دیارِ پاک سے تشریف لارہے ہیں ، یہ عمامہ آپ کے قدموں کے لائق بھی نہیں ، البتہ میرے کپڑوں میں سب سے بیش قیمت ایک جُبّہ ہے وہ حاضر کیے دیتا ہوں ،چنانچہ آپ نے کاشانۂ اقدس سے سرخ کاشانی مخمل کا ’’جبہ مبارکہ‘‘ لا کر عطا فرمادیا جو ڈیڑھ سو روپے سے کسی طرح کم قیمت کا نہ ہوگا۔ مولانا ممدوح نے سرو قد کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ پھیلاکر لے لیا، آنکھوں سے لگایا ، لبوں سے چوما ، سر پر رکھا۔ پھر سینے سے دیر تک لگائے رہے۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ۱/۱۳۲) 
حضور کو عمامہ باندھنے والے صحابۂ کرام 
	حضرت علامہ محمد بن سعد عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الاَحَد نقل فرماتے ہیں کہ (غزوۂ اُحد پر روانگی سے قبل) جب نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم نے نمازِ عصر پڑھائی اور اپنے دولت خانہ میں تشریف لے گئے تو حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق اور حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما  بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم کے ساتھ