سَلاسِل وغیرہ کی اجازتیں عطا فرمائیں ، عرس قاسمی (مارہرہ ) کے موقع پر خانقاہ برکاتیہ میں مولانا سید مصطفی حیدر حسن میاں برکاتی نے اپنا عمامہ شریف قاری امانت رسول کے سر پر باندھا اور فرمایا: خلافت تو گولا میں دے چکا، دستار رہ گئی تھی وہ یہاں باندھی گئی۔ (مفتی ٔاعظم اور ان کے خلفاء ، ص ۲۰۹)
عمامہ شریف کیوں عطا نہ فرمایا؟
جناب سید ایوب علی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ علامہ شِیرِیں زباں ، واعظِ خوش بیاں ، مولانا مولوی حاجی قاری شاہ عبدالعلیم صاحب صدیقی قادری رضوی میرٹھی( خلیفۂ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) حرمین شریفین سے واپسی پر اعلیٰ حضرت (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی شان میں ایک منقبت نہایت ہی خوش آوازی سے پڑھ کر سنائی۔جس کا مَطلَع اور مَقطَع یوں ہے
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اُس سے سوا تم ہو
قسیمِ جامِ عرفان اے شہِ احمد رضا تم ہو
’’علیمِ ‘‘ خستہ اک ادنیٰ گدا ہے آستانے کا
کرم فرمانے والے حال پر اس کے شہا تم ہو
ابھی آپ نے چند ہی اشعار پڑھے تھے کہ مجمع میں ایک جوش و جذبہ پیدا ہوا، بعض