Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
374 - 479
 مادر زاد ولی ہے ، یہ بچہ طویل عمر پائے گا اور دینِ اسلام کی خوب خدمت کرے گا، مخلوق کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا۔‘‘ پھر سَیِّدُالمَشائِخ حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری قُدِّسَ سِرُّہُ  نے امام احمد رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے نورِ نظر لختِ جگر اور مستقبل کے ’’مفتی ٔاعظم ہند‘‘کو داخلِ سلسلہ فرما لیا۔ حضرت سیّدالمشائخ نے تمام سلاسل اور مشاغل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی اور اپنا خرقہ،عمامہ عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ اب تک مجھ کو مشائخِ کرام سے جو کچھ ملا وہ سب اس بچے کو دیتا ہوں۔‘‘ (تجلیات امام احمد رضا، ص۴۱ملخصاً) 
 سیّدنا قُطبِ مدینہ نے عمامہ عطا فرمایا 
	قُطبِ مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مدنی رضوی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے ۱۳۹۵ھ میں حسّانُ الہند قاری محمد امانت رسول رضوی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کو اجازت عطا فرمائی، اس کے ساتھ بہت سے انعام و اکرام اور عمامہ، کلاہ عربی، جبہ اور رومال بھی عنایت فرمایا۔  (مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفاء ، ص ۲۰۹)
 احسن العلماء نے دستار بندی فرمائی
	 اَحسنُ العُلَماء مولانا سید مصطفی حیدر حسن برکاتی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف نے۶ شعبان المعظم ۱۴۰۳ھ کو سرزمین گولا ضلع پیلی بھیت پر حسّان الہند قاری محمد امانت رسول رضوی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کو تمام