Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
373 - 479
ہوئے، اور خوشی کا اظہار فرمایا، نیز اپنا عمامہ مبارک حضرت شیر بیشۂ سنّت کے سر پر رکھ دیا اپنا جبّہ شریف عطا فرمایا اور پانچ روپے نقد عطا فرمائے نیز غیظ المنافقین اور ابوالفتح کے بے نظیرلامثال خطابات عطا فرمائے۔ (مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفاء ، ص ۳۳۳ ، سوانح شیر بیشۂ سنّت، ص۴۳ ملخصاً) 
اعلٰی حضرت نے اپنا عمامہ عطا فرما دیا
	حضرت علامہ شاہ محمد حبیب اللہ قادری میرٹھی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی  کو امامِ اہلسنّت اعلیٰ حضرت عَلَیہ رَحمَۃُرَبِّ العِزَّت نے نہ صرف خلافت سے نوازا بلکہ اپنا عمامہ شریف بھی عطا فرمایا وہ بھی اس شان سے کہ عیدالاضحی کے دن علمائے کرام کے جمِ غفیر میں اعلیٰ حضرت عَلَیہ رَحمَۃُرَبِّ العِزَّت نے آپ کو قریب بلا کر فرمایا: ’’مولانا ! دل چاہتا ہے کہ فقیر اپنے سر کا مُستَعمَل (استعمال شدہ) عمامہ آپ کو دے ، اور یہ فرما کر اپنا عمامہ شریف ان کے سر پر باندھ دیا اور اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ (فیضانِ اعلیٰ حضرت، ص ۶۷۲) 
مفتیٔ اعظم ہند کے لئے عمامہ 
	مفتیٔ اعظم ہند (حضرتِ علّامہ مصطفی رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن) کی ولادت پر سَیِّدُا لمَشائِخ حضرت سیدشاہ ابوالحسین احمد نوری قُدِّسَ سِرُّہُ نے امام احمد رضا قُدِّسَ سِرُّہُ کو مبارک باد دی اور جب عمر مبارک چھ ماہ ہوئی تو ان کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’یہ بچہ