Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
372 - 479
سے نعت شریف پیش کرنے کی اجازت چاہی ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے منبر پر کھڑے ہو کر سنانے کی اجازت دی ، نعت شریف کو بہت پسند فرمایا ، جسمِ اقدس پر شامی چادر تھی اتار کر حضرت سیّدنا حسّان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جسم پر اُڑھادی ۔ فقیر کیا حاضر کرے ؟‘‘ اتنا فرما کر اپنا عمامہ شریف اتار کر حضرت برھانِ ملّت کے جھکے ہوئے سر کو سرفراز فرما کر دعائے درازئی عمر و ترقیٔ علم و عمل وثبات و استقامت فرمائی ۔ سرکار اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحْمَۃُ رَبِّ اْلعِزَّت کا عطا کردہ عمامہ شریف آج بھی تبرکات میں محفوظ ہے اور عید میلاد النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم و جلوس غوثیہ قادریہ میں تقریر کے دوران صاحبِ سجادہ دَامَ ظِلُّہ اسے زیبِ سر کرتے ہیں۔  
(برھانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص، ۱۱۴)
شیر بیشۂ سنّت کو عمامہ عطا فرمایا 
	مناظرِ اعظم ہند، شیر بیشۂ سنّت حضرت علامہ مولانا ابوالفتح حشمت علی خان عَلَیہ رَحمَۃُاللہِ الرَّحمٰن نے ہلدوانی کے مناظرہ سے واپسی پر اپنے شیخِ کامل امام احمد رضا فاضل بریلوی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کی بارگاہ میں حاضری دی اور پوری تفصیل سے مناظرہ کی کیفیت سنائی تو امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی  اپنے شیر کے اس جرأت اور فتح مندانہ قدم کو دیکھ کر بہت مسرور