اس کا مطلع یہ ہے
ماہ سیما ہے احمد نوری مہر جلوہ ہے احمد نوری
اور مقطع یہ ہے
کیوں رضا تم ملول ہوتے ہو ہاں تمہارا ہے احمد نوری
اس قصیدہ کو اِستماع فرما کر (یعنی سُن کر) حضرت ممدوح (حضرت نوری میاں قُدِّسَ سِرُّہ) نے اعلیٰ حضرت قُدِّسَت اَسرَارُھُمَا کو ایک نہایت ہی نفیس معطر و معنبر عمامہ عطا فرمایا اور اپنے دستِ اقدس سے اعلیٰ حضرت کے سر پر باندھا۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۳/۵۶)
اعلٰی حضرت نے دستار بندی فرمائی
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت عَلَیہِ رَحْمَۃُ رَبِّ اْلعِزَّت کی بارگاہ میں ایک بار کسی نے مفتی محمد بُرھان الحق جَبَل پوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے لکھے ہوئے نعتیہ کلام کے چند اشعار پڑھے تواعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحْمَۃُ رَبِّ اْلعِزَّت نے فرمایا کہ یہ اشعار بُرھان میاں نے لکھے ہیں ؟ ماشآء اللہ ، بَارَکَ اللہ ۔ پھر فرمایا ، میں غور کر رہا تھا کہ جامی (قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامی) کے طرز پر کس نے طبع آزمائی کی ہے ؟ کہاں ہیں برھان میاں ؟ بُرھانِ ملت دار الافتاء میں بیٹھے تھے حکم سن کر حاضرِ بارگاہ ہوئے ، سامنے دیکھ کر سرکار ِ اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحْمَۃُ رَبِّ اْلعِزَّت نے ارشاد فرمایا ’’حضرت سیّدنا حسّان بن ثابت اَنصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم