میں لے کر حاضر ہوئے، دیکھتے ہی سیّدنا غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الاَکرَم نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی قدم بوسی فرمائی اور نمازِ جمعہ سے فراغت کے بعد روزِ جمعہ ماہِ صفرالمظفر ۵۱۱ ھ کو اسی مسجد میں تمام مُعاصِر اولیاء کرام کی موجودگی میں سیّد عبدالقادر جیلانی کو اپنے ہاتھ پر بیعت و ارشاد سے مشرف کر کے اپنی کلاہ ان کے سر پر اُوڑھا دی اور اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھ کر خرقہ انہیں پہنا دیااور خلافت نامہ اہلِ مجلس کو سُنا کر عطا فرمایا۔ (تاریخ مشائخ قادریہ ، ۱/۱۴۰)
سیّدنا اعلٰی حضرت کی دستار بندی
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ العِزَّت کو اپنے مشائخِ کرام قُدِّسَت اَسرَارُھُم کے ساتھ جو شَغَف تھا، بیان سے باہر ہے۔ اسی لیے جب ذرا بھی موقع ملتا مشائخِ کرام کا تذکرہ فرمادیتے تھے۔ ۱۳۱۵ھ میں اردو میں دو قصیدے تحریر فرمائے۔ ایک تَاجُ الفُحُول، مُحِبُّ الرَّسُول حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب بدایونی قُدِّسَ سِرُّہُ العَزِیز کی مدح وصفت میں۔ جس کا نام تاریخی، چراغ انس، (۱۳۱۵ھ) رکھا۔ اس کا مطلع یہ ہے۔
اے امام الہدیٰ محب رسول دین کے مقتدیٰ محب رسول
دوسرا قصیدہ حضرت سیّدنا سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب قُدِّسَ سِرُّہُ کی مدح و ثناء میں اس کا تاریخی نام، مشرقستان قدس (۱۳۱۵ھ) رکھا۔