سے خوف کرتی ہیں اور تُو خدا سے نہیں ڈرتا!‘‘ اسی وقت تائب ہوئے ا ور گھر کو لوٹ آئے۔ شب کو سوئے خواب میں زیارتِ اقدس (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) سے مشرف ہوئے ۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم کے ساتھ ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے ۔ آپ نے عرض کیا: بیعت لیجئے! ارشاد فرمایا:’’ تجھ سے تیرا ہم نام بیعت لے گا۔‘‘ ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیعت لی اور اپنی کُلاہ (یعنی عمامہ) مبارک انکے سر پر رکھی۔ آنکھ کھلی تو کُلاہ اقدس موجود تھی ۔ یہ سلسلہ ھواریہ آپ سے شروع ہوا۔
(جامع کرامات الاولیائ، حرف الالف، ابوبکر بن الھوار، ۱/۴۲۵)
اولیاء اللہ کی دستار بندی کے واقعات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علماء کرام اور اولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہونہار اور قابلِ فخر شاگردوں اور مریدین کو ان کے کسی کارنامے یا منازلِ سُلوک طے کرنے پر عمامے شریف سجاتے اور اپنی اَسناد سے نوازتے ہیں ایسے ہی چند واقعات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ
سیّدنا غوثِ اعظم کی دستار بندی
حضرت سیّدنا غوثِ اعظم کے پیرومرشد، حضرت سیّدنا ابوسعید مَخزومی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کُلاہ ، عمامہ ، اور خرقہ ہمدست حضرت خضرعَلَیْہِ السَّلام جامع مسجد