Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
36 - 479
 ’’عمامے کو ’’عمامہ‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پورے سر کو ڈھانپ لیتا ہے ۔‘‘ 
 (الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۴) 
عمامے کی ابتداء
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامے شریف کی ابتداء حضرت سیّدنا آدم صَفِیُ اللہ عَلٰی نَبِیّنَا وَ عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے ہوئی۔ جس وقت آپ جنت سے دنیا میں تشریف لائے تو حضرت سیّدنا جبریل امین عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے آپ عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو عمامہ شریف باندھا۔ (محاضرۃ الاوائل، ص۸۴) 
حضرت ذوالقرنین کی دلچسپ حکایت 
	حضرت سیّدنا آدم عَلٰی نَبِیّنَا وَ عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بعد حضرت سیّدنا ذوالقرنین (1) رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِ نے عمامہ شریف باندھا۔ اس کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ ابوالشیخ عبداللہ بن محمد بن جعفر اَصبَہَانی رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِ (مُتَوَفّٰی ۳۶۹ھ) نقل فرماتے ہیں کہ آپ کے سر میں دو سینگ نکل آئے تھے جو کہ حرکت بھی کیا کرتے تھے آپ انہیں چھپانے کے لیے عمامہ شریف باندھنے لگے۔

1…اسکندر ذوالقرنین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ خضر عَلَیْہِ السَّلام کے خالہ زاد بھائی ہیں ۔ حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلام ان کے وزیر اور صاحب ِ لواء تھے۔ (تفسیر خزائن العرفان تحت سورئہ کہف آیت ۸۳) یہ تمام دنیا کے حکمران تھے چنانچہ اللہ تعالٰی فرماتاہے: سورۂ کہف کی آیت ۸۴ ، ترجمہ کنزالایمان :’’بے شک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا۔