روزانہ بعد نمازِ مغرب خَلوَت میں مجھ پر یہ درودِ پاک پڑھتے ہیں :
اللھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الاُمِّیِّ وَعَلٰی آلِہ وََصَحْبِہ وَسَلِّمْ عَدَدَ مَاعَلِمْتَ وَزِنَۃ مَاعَلِمْتَ وَمِلْئَ مَا عَلِمْتَ ۔
جب یہ واقعہ حضرت محمد حنفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے حق فرمایا، پھر عمامہ شریف لیا ، اسے سر پر باندھا اور اس کا شملہ چھوڑا ۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں حاضر سب ہی لوگوں نے اپنے اپنے عمامے اتارے اور دوبارہ شملے والے باندھے۔ (الطبقات الکبری ، الجزء الثانی، ۱۲۵، سعادۃ الدارین ، ص ۱۴۸)
سیّدنا صِدِّیقِ اکبر نے خواب میں کُلاہ عطا فرمائی
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘ کے صفحہ 445 پر ہے حضرت (سیّدنا) ابوبکر ھوار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پہلے رَہزن ( یعنی ڈاکو) تھے ، قافلے کے قافلے تنہا لُوٹا کرتے تھے۔ ایک بار ایک قافلہ اُترا ۔ آپ وہاں تشریف لے گئے، ایک خیمہ کی طرف گئے۔ اُس خیمے میں عورت اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی: ’’شام قریب ہے اور اس جنگل میں ابوبکر ھوار کا دخل ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ آ جائیں !‘‘ بس یہ کہنا ان کا ہادی ( یعنی ہدایت کا سبب) ہو گیا۔ خود فرمایا: ’’ابوبکر تیری حالت یہ ہوگئی کہ خیموں میں عورتیں تک تجھ