Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
367 - 479
ہوئے تو آقائے دو جہاں  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے انھیں اپنے پاس بیٹھا لیا ، پھر آپ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھُمَا کی طرف متوجہ ہوئے اور شیخ محمد حنفی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں سوائے اس کے عمامہ کے جو بغیر شملے کے ہے۔ یہ سن کر حضرت سیّدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم اجازت ہو تو میں ان کے سر پر عمامہ شریف باندھ دوں ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا ہاں۔ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا عمامہ شریف لے کر حضرت محمد حنفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سر پر باندھ دیا اور عمامہ کا شملہ بائیں جانب لٹکایا۔ 
 	حضرت سیّدنا شریف نعمانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جب یہ خواب حضرت محمد حنفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سنایا تو وہ اور ان کے ہمنشیں سب آبدیدہ ہو گئے۔ پھر حضرت محمد حنفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شیخ شریف نعمانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا: آئندہ جب آپ کو سیّدِ دو عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہو تو عرض کیجئے گا یہ نظرِ عنایت محمد حنفی (رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ) کے کون سے عمل کی وجہ سے ہے؟ کچھ دنوں کے بعد شیخ شریف نعمانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زیارت کی نعمت سے سرفراز ہوئے اور وہ عرض پیش کر دی۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: وہ