Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
366 - 479
شَمسُ الاَئِمَّہ حضرت سیّدنا امام محمد بن احمد سَرَخسِی حنفی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : اس میں عمامہ کھول کر دوبارہ باندھنے کی دلیل ہے ، عمامہ ایک ہی بار سر سے نہیں اتارنا چاہئے بلکہ جس طرح باندھا تھا اتارتے وقت بھی اسی طرح ایک ایک کر کے پیچ کھولنا چاہے۔ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عمامہ اسی طرح کھولا لہٰذا ایک ہی بار کھول کر زمین پر ڈال دینے سے یہ طریقہ بہتر ہے۔
 (شرح سیر الکبیر، باب العمائم فی الحرب، ۱/۶۷) 
سیّدنا صِدِّیقِ اکبر نے خواب میں عمامہ سجا دیا
	حضرت سیّدنا شریف نعمانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (جو کہ حضرت شیخ محمد حنفی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کے مُتَوَسِّلِین میں سے تھے) فرماتے ہیں : میں نے خواب میں اپنے جَدِّ اَمجد حضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو دیکھا، ایک بڑے خیمے میں جلوہ گر ہیں اور اُمّت کے اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام حاضر ہو کر یکے بعد دیگرے سلام عرض کر رہے ہیں اور کوئی صاحب کہہ رہے ہیں کہ یہ فلاں وَلیُ اللہ ہیں اور یہ فلاں ہیں اور آنے والے حضرات سلام عرض کر کے ایک جانب بیٹھتے جاتے ہیں۔ حتی کہ ایک جانب سے جَمِّ غَفِیر آتا دکھائی دیا تو ندا دینے والا کہنے لگا یہ محمد حنفی (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) آ رہے ہیں۔ جب وہ نبی ٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر