مزید فرماتے ہیں کہ (نبیٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عمامہ شریف) اس طرح (باندھا) کہ عمامہ کا پہلا شملہ تو سینہ پر ڈالا اور آخری شملہ پیٹھ پر ڈالا۔ یہ ہی سنّت ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ (عمامہ) کھڑے ہو کر باندھنا سنّت ہے۔ مسجد میں باندھے یا کہیں اور۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶/۱۰۵ ملتقطاً)
حضرت علامہ احمد بن حسین بن حسن بن علی المعروف اِبنِ رِسلان (مُتَوَفّٰی ۸۴۴ ھ) اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ سینے پر عمامے کا شملہ لٹکانا عاملِ سنّت صالحین کا شِعَار ہے۔ (الموسوعۃ الفقہیہ ، ذوابۃ ، ۲۱/۱۶۸)
حضرت علامہ شہاب الدین احمد بن حجر مکی شافعی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی مندرجہ بالا روایت نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں کہ : رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عمامہ اس لئے باندھا تھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے شملہ نہیں چھوڑ رکھا تھا۔ (درالغمامۃفی در الطیلسان والعذبۃ والعمامۃ ، الفصل الاول ، ص ۴ مخطوط مصور)
دونوں کندھوں پر شملے
امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے غدیر خُم کے مقام پر میرے سر پر عمامہ باندھا جس کا شملہ میری پشت پر لٹکایا۔ دوسری روایت میں ہے