حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب خلافتِ سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ عمامہ شریف باندھ رکھا تھا جو سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر سجایا تھا۔
(البدایۃ و النہایۃ، خلافۃ امیرالمومنین عثمان بن عفان الخ، ۵/۲۲۷)
دستارِ فضیلت کا ثبوت
آج کل دینی جامعات میں ایک مخصوص تقریب کااہتمام کیا جاتا ہے جس میں فارغُ التحصیل طلبہ کے سروں پر کوئی بزرگ عمامہ باندھتے ہیں جیسا کہ تبلیغ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت جامعات المدینہ سے فارغُ التحصیل بارہ ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کر چکنے والے مدنی اسلامی بھائیوں کے سروں پر شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے مبارک ہاتھوں سے عمامہ شریف سجاتے ہیں ، اس کی اصل بھی یہی حدیثِ مبارکہ ہے چنانچہ
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیہ رَحمَۃُ الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : آج کل فارغ التحصیل طلباء کے سروں پر علماء عمامے لپیٹتے ہیں جسے رسمِ دستار بندی کہا جاتا ہے۔ اس کی اصل یہ حدیث ہے۔