دیا اور فرمایا: اے ابن عوف ! اس طرح عمامہ باندھو بے شک یہ سب سے خوبصورت اور حسین ہے۔ (کتاب المغازی ، سریۃ امیرہاعبدالرحمن بن عوف ، ۲/۵۶۰ ، سیرت حلبیہ، باب سرایاہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ، سریۃ عبد الرحمن بن عوف، ۳/۲۵۵)
حضرت عبد الرحمٰن کے سر پر دو شملوں والا عمامہ
حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے مجھے عمامہ شریف باندھا تو اس کا شملہ میرے آگے اور پیچھے لٹکا دیا۔ (ابوداؤد، کتاب اللباس ، باب فی العمائم، ۴/۷۷ ، حدیث:۴۰۷۹، شعب الایمان، باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۴، حدیث:۶۲۵۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ ، سیّدنا عبدالرحمن بن عوف اورسیّدنامُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا شماران خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے جن کے سر پر خوددو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم نے عمامہ شریف باندھا۔ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب کبھی کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتا ، یا کوئی بڑا معاملہ در پیش ہوتا تو اس عمامہ شریف کو زیبِ سر فرماتے چنانچہ