وَاٰلہ وَسلَّم کے عہدکو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالٰی ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے تو وہ ان کا مال وغیرہ سب کچھ چھین لیتے ہیں اور(5) جب مسلمان حکمران کِتابُ اللہ سے فیصلے کرنا چھوڑ دیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک جنگ کے لئے لشکر تیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ تو حضرت سیّدنا عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سوتی سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے حاضر ہوئے ۔ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم نے انہیں قریب بلایا ان کا عمامہ اُتارا اور سفید رنگ کا عمامہ شریف یوں باندھا کہ اس کا چار انگل یا اس سے کچھ زائد شملہ ان کی پشت پر لٹکا دیا اور فرمایا: اے ابن عوف ! اس طرح عمامہ باندھو بے شک یہ سب سے خوبصورت اور حسین ہے۔
(المستدرک، کتاب الفتن و الملاحم، ذکر خمس بلاء الخ، ۵/۷۴۹، حدیث:۸۶۶۷)
حضرت علامہ علی بن بُرہانُ الدِّین حَلَبِی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اور علامہ ابوعبداللہ محمد بن عمر واقدی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی نے یوں روایت نقل فرمائی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قریب بلا کر اپنے سامنے بٹھایا اور ان کا سیاہ عمامہ کھول کر اسے ہی دوبارہ باندھ دیا اور اس کا چار انگل یا اس سے کچھ زائد شملہ ان کی پشت پر لٹکا