Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
360 - 479
حضرت سیّدنا ابن مسعود ، حضرت سیّدناحذیفہ ، حضرت سیّدناابن عوف ، حضرت سیّدنا ابو سعیدخدری رِضوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلیہِم اَجمَعِین بھی تھے کہ ایک انصاری نوجوان آیا اور رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کو سلام کر کے بیٹھ گیا اور عرض کی یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم کون سا مومن سب سے افضل ہے؟ ارشاد فرمایا: جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔ اس نے پھر عرض کی کون سا مومن سب سے زیادہ عقلمند ہے؟ ارشاد فرمایا: جو موت کو کثرت سے یاد کرتا اور اس کے آنے سے پہلے ہی خوب تیاری کرتا ہے، وہی عقلمند ہیں۔ پھر وہ نوجوان خاموش ہو گیا۔ نبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے اس کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا اے مہاجرین جب تم پانچ باتوں میں مبتلا کر دیے جاؤ اور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان باتوں کو پاؤ۔ (1) یہ کہ جب کسی قوم میں بے حیائی ایسی عام ہو جائے کہ اعلانیہ ہونے لگے تو ان میں طاعون اور وہ بیماریاں عام ہو جاتی ہیں جو پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئیں تھیں۔ (2) جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو ان پر قحط مُسَلَّط کر دیا جاتا ہے،ان پر مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ، بادشاہ ان پر ظلم کرتے ہیں۔ (3) جب لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑدیتے ہیں تو اللہ تَعَالٰی اُن سے بارش روک دیتا ہے اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ (4) جب لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ