عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے بلال ان کے لئے میرا عمامہ لاؤ‘‘۔ حضرت سیّدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی بارگاہ میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کاعمامہ پیش کردیاپھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر عمامہ شریف باندھا اور پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رخصت کرنے کے لئے مدینہ شریف سے باہر تشریف لائے اور دُعاؤں سے نوازتے ہوئے الوَداع فرمایا۔(تاریخ الخمیس فی احوال انفس النفیس، ذکر معاذبن جبل، ۲/۱۴۲،واللفظ لہ،کتاب الثقات ،السیرۃ النبویۃ،السنۃ التاسعۃ من الہجرۃ، ۱/۱۴۷)
سرکار نے حضرت عبدالرحمٰن کو سفید عمامہ سجا دیا
حضرت سیّدنا عطاء بِن ابی رَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روایت فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے پاس تھا کہ ایک نوجوان حاضر ہوا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عمامے کا شملہ لٹکانے کے متعلق سوال کیا تو حضرت سیّدنا عبد اللہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا: میں تمہیں ابھی بتاتا ہوں ان شآء اللہ۔ پھر فرمایا: میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم کی مسجد میں بیٹھنے والے ان دس افراد میں سے ایک ہوں جن میں حضرت سیّدناابو بکر،حضرت سیّدنا عمر ،حضرت سیّدنا عثمان، حضرت سیّدنا علی ،