عمامے کا لغوی معنٰی:
اسلامی ممالک میں مردوں کے سر کا لباس جس میں بِالعُمُوم ایک ٹوپی ہوتی ہے جس کے گرد کچھ کپڑا لپٹا ہوتا ہے ۔ لُغت میں ہر اس شے کو عمامہ کہا جاتا ہے جسے سر پر لپیٹا جائے ، جیسا کہ علامہ ابراہیم بیجوری (بَ-ی -جُو-رِی) عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : وَالعِمَامَۃُ کُلُّ مَا یُلَفُّ عَلَی الرَّأسِ یعنی ہر وہ چیز جسے سر پر لپیٹا جائے اسے عمامہ کہتے ہیں۔ (المواہب اللدنیۃ علی الشمائل المحمدیۃ، باب ما جاء فی صفۃ عمامۃ رسول اللہ، ص ۹۹)
عمامے کا شرعی معنٰی:
شرعی طور پر عمامے سے مراد سر پر باندھنے کا ایسا کپڑا ہے جس کے کم از کم تین پیچ سر پر باندھے جا سکیں چنانچہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ’’ تین پیچ اگر اس کپڑے سے لپیٹے جائیں تو عمامہ کے حکم میں ہے ورنہ کچھ نہیں۔‘‘ (فتاویٰ امجدیہ، ۱/۱۹۹)
عمامے کی وجہ تسمیہ:
حضرت علامہ محمد بن جعفر کَتَّانی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :