Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
358 - 479
حضورنے حضرت معاذ بن جبل کو عمامہ باندہا
 	حضرت سیّدنا عبداللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے جب حضرت سیّدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یمن بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو ایک روز صبح کی نماز کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے گروہ ِمہاجرین و انصار! تم میں کون ہے جو (دینِ اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے لئے) ہمارا نمائندہ بن کر یمن جائے ؟ تو حضرت سیدنا صدّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو پیش کر دیا مگر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے سکوت اختیار فرمایا اور دوبارہ یہی ارشاد فرمایا: اے گروہ ِمہاجرین وانصار! تم میں کون ہے جو (دینِ اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے لئے) ہمارا نمائندہ بن کر یمن جائے ؟ تو حضرتِ سیّدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیـ: یارسول اللہ میں حاضر ہوں۔ مگر حضور عَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بدستور سُکوت فرمایا اور پھر وہی ارشاد فرمایا:اے گروہ ِمہاجرین وانصار تم میں کون ہے جو (دینِ اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے لئے) ہمارا نمائندہ بن کر یمن جائے؟ اب حضرتِ سیّدنا معاذ بن جبل  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے اورعرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم میں (حاضر ہوں )! نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: ہاں اے معاذ! تم ہی اس کام کے لئے ہو، پھر سرکارِ نامدار ، مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی