نے فرمایا: چہرہ ہماری جانب کرو ، تو انھوں نے ایساہی کیا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ و َسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’فرشتوں کے تاج ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ‘‘(کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز : ۱۵، ۸/۲۰۵، حدیث: ۴۱۹۰۶)
{4}حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے: رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے غَدِیر خُم (1)کے دن میرے سر پر عمامہ باندھا اور اس کا شملہ میری پشت پر لٹکا دیا۔ (سنن الکبری للبیہقی ، کتاب السبق والرمی، باب التحریض علی الرمی، ۱۰/۲۴، حدیث:۱۹۷۳۶ مختصراً)
1…خُم ایک ایسی جگہ کا نام ہے جہاں بکثرت گھنے درخت پائے جاتے ہیں،اور یہ مقامِ جُحْفَہ (مکہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ کے درمیان ایک جگہ کا نام) سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔اسی وادیٔ جُحْفَہ کے پاس مشہور غدیر (تالاب)بھی ہے جسے اسی خُمّ کی طرف منسوب کیاجاتاہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،باب مناقب علی بن ابی طالب،الفصل الثالث،۱۰/۴۷۵، تحت الحدیث:۶۱۰۳)اسی مقام پر نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کے لئے مَن کُنتُ مَولاَہُ فَعَلِیٌّ مَولَاہُ یعنی جس کا میں مولا ہوں اس کے علی(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) بھی مولا ہیں(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن ابی طالب، ۵/۳۹۸، حدیث:۳۷۳۳) کے منصبِ عالی کا اعلان فرمایا تھا۔)