Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
356 - 479
 الکَرِیم کے سامنے کی جانب اور ایک بالشت کی مقدار شملہ ان کی پشت پر لٹکا دیا۔ (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سرایاہ وبعوثہ الخ، الباب الثانی و السبعون فی سریۃ علی الخ، ۶/۲۳۸ ملخصاً) 
	{2}حضرت علامہ محمد بن سعد عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الاَحَد نقل فرماتے ہیں کہ غزوۂ خندق کے موقع پر جب عمرو بن عبدِوُد نے صحابۂ کرام عَلَیہمُ الرِّضوَان کو مقابلے کے لئے پکارا تو حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم آگے بڑھے اور عرض کی یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم میں اس سے مقابلہ کروں گا۔ تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے انہیں اپنی تلوار عطا فرمائی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ شریف باندھ کر دُعا کی یااللہ عَزَّوَجَلَّ علی کی مدد فرما۔ چنانچہ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم نے اسے پلک جھپکتے ہی واصلِ جہنم کر دیا۔ 
(طبقات ابن سعد، غزوۃ رسول اللہ الخندق الخ ، ۲/۵۲) 
	{3}امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ و َسَلَّمَ نے اپنے دستِ رحمت سے ان کے سر پر عمامہ باندھا تو شملہ پیچھے اور آگے رکھا ۔ پھر فرمایا : چہرہ دوسری جانب کرو، انھوں نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم