Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
355 - 479
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کسی مہم پر روانہ فرماتے، یا میدانِ جنگ میں عَلَمِ اسلام  بلندکرنے کا موقع ہوتا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سروں پر عمامہ شریف باندھ دیتے ، جو نہ صرف برکت کا موجب ہوتا بلکہ فتح و کامیابی کا باعث بھی بنتا چنانچہ 
مولا علی کے سر پر عمامہ باندھا
 	{1}مدینے کے تاجدار، صاحبِ عمامۂ خوشبودار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم نے جب حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کو یمن کی جانب روانہ فرمایا تو انہیں جھنڈا عطا فرمایا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ شریف باندھا۔ (طبقات ابن سعد، سریۃ علی بن ابی طالب الی الیمن الخ ، ۲/۱۲۸) 
	حضرت علامہ محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی یہی روایت قدرے تفصیل سے بیان فرماتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں : نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کے لئے جھنڈا تیار فرمایا ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عمامہ لیا اسے تہہ کیا اور اسے نیزے کے سرے پر رکھ دیا اور سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم  کو عطا فرما دیا پھر اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں عمامہ شریف باندھا جس کے تین پیچ تھے  ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم نے دو شملے ایک ہاتھ کی مقدار حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْھَہُ