Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
354 - 479
 آپ کے لئے مختلف شہروں سے اَسّی ہزار چادریں ، پچاس ہزار تمشکۃ (رومال وغیرہ) بیس ہزار عجمی اونی کمبل، بتیس ہزار کاٹن کے عمامے اور گیارہ ہزار سونے کے دوافقی ٹکڑے آئے اور سات لاکھ ہندی چادریں آئیں اور اسی دن آپ نے رواق کی نہر کے کنارے اپنے کپڑوں کو دھویا اور اپنی ستر پوشی اپنے رومال سے فرمائی اور رواق میں آپ کی الماری میں ایک بھی درہم نہ تھا جو کچھ آپ کو حاصل ہوا تھا وہ سب آپ نے کمزوروں پر صدقہ کر دیا، یا مستحقین، سائلین اور فقراء و مساکین کو دیدیا۔ (سیرت سلطان الاولیاء ، ص۶۹ بتصرف) 
	اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اسلاف کی سیرت کے مظہر ہیں ، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی عمامہ شریف سے نہ صرف محبت فرماتے ہیں بلکہ اس سنّت کو عام کرنے میں کس قدر کوششیں فرماتے ہیں اس کا اندازہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے اس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ فرماتے ہیں : ’’میں نے اپنے سینکڑوں استعمالی عمامے لوگوں میں تقسیم کئے ہیں تاکہ وہ عمامے باندھیں۔ ‘‘
صحابہ کرام کی دستار بندی کے واقعات

دوسرے کے سر پر عمامہ باندھنا 
	حُضورپُرنور ، شَافِعِ یَومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسلَّم جب کبھی