ان عماموں میں سے ایک ریشم ملا اُونی کپڑے کا عمامہ اپنے سر پر بھی باندھ لیا۔ اس نے سارے عمامے تقسیم کر دئیے مگر اپنے سر پر باندھے ہوئے عمامے کو دینا بھول گیا۔ جب اُسے یاد آیا تو وہ فکر مند ہوا اور وہی عمامہ شریف لئے بارگاہِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: مجھے یہ خوف لاحق تھا کہ اگر میں نے یہ عمامہ اپنے پاس ہی رکھ لیا تو ضرور مجھے اس کی مثل (بروزِ قیامت) آگ کا عمامہ پہنایا جائے گا۔
(کتاب السیر لابی اسحاق الفرازی ،باب الغلول، ص ۲۳۷، حدیث:۳۹۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے اسلاف عمامہ شریف کی پیاری پیاری سنّت سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے اوران کے دلوں میں اسے عام کرنے کا کیسا ایمانی جذبہ ہو ا کرتا تھااس کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے چنانچہ
سیّدنا امام رفاعی کی سخاوت
حضرت شیخ عبدا لصمد حَربونی جو کہ َرواق (شہر) میں اوقافِ احمدی کے ذمہ دار تھے وہ فرماتے ہیں کہ ۵۶۷ھ میں حضرت (سیّدنا) امام احمد رفاعی (عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی) کے کھیت اور آپ کے رواق میں موجود اوقاف سے سات لاکھ دیوانی چاندی کے درہم اور بیس ہزار سونے کے ٹکڑے حاصل ہوئے اور اسی سال