ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنے مشہور رسالے ’’بریلی سے مدینہ ‘‘میں فرماتے ہیں :یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں باب المدینہ کراچی کے علاقہ کھارادر میں واقع حضرت سیّدنا محمد شاہ دولھا بخاری سبزواری علَیْہ رَحْمَۃُ اللہ البَارِی کے مزار شریف سے مُلحِقہ حیدری مسجد میں تاجدارِ اہلسنّت، شہزادہ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولیٰنا مصطفٰی رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا متبرک عمامہ شریف سر پر سجا کر نمازِ فجر پڑھایا کرتا تھا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک ولیٔ کامل کا عمامہ شریف بارہا میرے ہاتھوں اور سر سے مس ہوا ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ہاتھوں اور سر کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔ دراصل بات یہ ہے کہ مُتَذَکِّرہ بالا حیدری مسجد میں اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، امام اہلسنّت، مجدد دین و ملت، عالم شریعت، واقفِ اَسرارِ حقیقت، پیر طریقت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے خلیفہ مجاز مَدَّاحُ الحبیب ، صاحبِ قبالۂ بخشش حضرت مولانا جمیل الرحمن قادری رضویعَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کے فرزند ارجمند حضرت علامہ مولانا حمید الرحمٰن قادری رضوی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی امامت فرماتے تھے۔چونکہ مسجد سے آپ کا دولت خانہ تقریباً چھ سات کلو میٹر دور تھا۔ لہٰذا فجر کی امامت کی مجھے سعادت ملتی تھی۔ اور ان کا حضور مفتی اعظم ہند رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ والا عمامہ شریف مجھے نصیب ہو جاتا، جس سے میں برکتیں