Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
350 - 479
مفتیٔ اعظم ہند کی عمامہ شریف سے محبت 
	حضرت مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک سال دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کے سالانہ جلسہ دستارِ فضیلت کے موقع پر براؤں تشریف لائے ۔تو ’’فیض الرسول ‘‘ کے اساتذہ نے حضرت مفتیٔ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے درسِ حدیث لے کر اجازتِ حدیث لینے کا فیصلہ کیا۔ حضرت مفتیٔ اعظم ہند  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی اجازت سے درسِ حدیث کی ایک نورانی مجلس بڑے تُزک و اِحتشام سے منعقد ہوئی ۔ درسِ حدیث کی اس مجلس کے شرکاء پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ عمامہ شریف باندھ کر ہی شریک ہوں ، چنانچہ سارے اساتذۂ فیض الرسول درسِ حدیث کی اس مجلس میں عمامہ باندھ کر شریک ہوئے۔ 
(مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفائ، ص۴۴ بتصرف) 
	حضور مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عمامہ شریف سے محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے جن جن علمائے و مفتیانِ کرام کو خلافت عطا فرمائی ان میں سے اکثر کو خود اپنے ہاتھوں سے عمامہ شریف باندھا ، بہتوں کو جبہ و دستار اور ٹوپی بھی عطا کی۔ (تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ ،ص ۵۰۹) 
مفتیٔ اعظم ہند کا عمامہ اور امیرِ اہلسنّت 
	شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا